ابنا: اوباما نے پیر کو دعوی کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی قذافی کو جرائم ڈھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکہ کا یہ بیان ایسے عالم میں آرہا ہے کہ مغربی ممالک لیبیا میں قتل عام پر خاموش تماشائي بنے ہوئےہیں اورعوام کے قتل عام کو روکنے کےلئے کوئي عملی اقدام نہیں کررہےہیں۔ ادھر لیبیا سے ہزاروں افراد کے فرارہونے سے تیونس کےساتھ ملی سرحد پر انسانی بحران وجود میں آ گيا ہے۔ بتایا جاتا ہے قذافی کے حملوں میں کم ا ز کم چھے ہزار افراد مارے جاچکےہیں۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ قذافی کے کرائے کے فوجیوں نے شہر راس لانوف میں بیس فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا جنہوں نے انقلابیوں کےخلاف اقدامات کرنے سے انکار کردیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110